Home » خبریں » 4 branh understand diseases ,وہ4بیماریاں جن پرحضوراکرمؐ نےفرمایاکہ انھیں برانہ سمجھو

4 branh understand diseases ,وہ4بیماریاں جن پرحضوراکرمؐ نےفرمایاکہ انھیں برانہ سمجھو

4 branh understand diseases ,وہ4بیماریاں جن پرحضوراکرمؐ نےفرمایاکہ انھیں برانہ سمجھو

download (1)

وہ4بیماریاں جن پرحضوراکرمؐ نےفرمایاکہ انھیں برانہ سمجھو، یہ تمھارے لیےاچھی ہیں.

download

رسول اکرمؐ نے فرمایا کہ چارامراض کو برا نہیں سمجھنا چاہئے۔

1۔ آنکھ کا دُکھنا اندھے ہونے سے محفوظ رکھتا ہے۔

2۔ زکام کا ہونا برص کے روگ سے نجات دیتا ہے۔

3۔ کھانسی کا ہونا فالج سے محفوظ رکھتا ہے۔

4۔ پھوڑے پھنسی ہو جانے سے کئی بڑے امراض سے نجات ملتی ہے۔

علاج معالجے کے متعلق احادیث ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے: “ہر بیماری کے لیے دوا ہے.اگر دوا لگ گئی تو مریض حکم الہی سے شفا پاجاتا ہے.”(صحیح مسلم) “اللہ تعالی نے کوئی بیماری نہیں اتاری جس کی دوا بھی نہ اتاری ہو”(صحیحین) اسامہ رضی اللہ بن شریک کی روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ کچھ بدو آئے.اور پوچھنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا ہمیں علاج کرنا چاہیے؟ فرمایا: “ہاں اللہ کے بندو! دوا کرو اللہ تعالی نے کوئی بیماری نہیں اتاری جس کی دوا بھی نہ اتاری ہو۔

images (2)

loading...

بجز ایک بیماری کے جسکی کوئی دوا نہیں.” کہنے لگے : وہ کونسی بیماری ہے؟ فرمایا:”بڑھاپا”. (مسند) بہترین طبیب سے علاج کرنا چاہیے: مؤطامیں فرید رضی اللہ عنہ بن اسلم کی روایت ہے.کہ ایک شخص زخمی ہوگیا اور خون اندر بند ہوگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی انمار کے دو شخصوں کو طلب کیا اور بغور دیکھ کر فرمانے لگے.” تم میں سے زیادہ طب کون جانتا ہے؟”ایک شخص عرض کرنے لگا,کیا طب سے بھی کچھ فائدہ ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: “ہاں جس نے بیماری اتاری ہے اس نے طب بھی اتاری ہے.” امراض متعدیہ سے تحفظ: صحیح مسلم میں ہے کہ وفد ثقیف میں ایک مجذوم بھی آیا تھا. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے نہیں ملے بلکہ کہلا بھیجا:”لوٹ جاؤ, ہم نے تمھاری بیعت قبول کر لی.” ایک اور حدیث مبارکہ ہے: “جذامی سے اس طرح بھاگو جس طرح شیر سے بھاگتے ہو.”(بخاری) جذامیوں کی طرف ٹکٹکی باندھ کر نہ دیکھا کرو. (ابن ماجہ) بیمار تندرستوں میں داخل نہ ہو. (صحیحین)نیم حکیم: حدیث مبارکہ ہے: ” جس شخص کا طبیب ہونا مشہور نہ ہو اور لوگوں کا علاج معالجہ شروع کر دے تو وہ بیمار کی زندگی کا ضامن ہے.” (سنن ابو داؤد, سنن نسائی, ابن ماجہ)اس سے معلوم ہوا کہ غیر طبیب سے علاج نہیں کرنا چاہئیے اور اگر کرے تو نقصان کی صورت میں ذمہ داری اسی کے سر ہوگی. بد ہضمی: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “جو ظرف انسان بھرتا ہے.اس میں سب سے برا ظرف پیٹ ہے.ابن آدم کے لیے چند لقمے کافی ہیں جو اس کی کمر کو سیدھا رکھیں اور اگر زیادہ کھانا ضروری ہو تو اسطرح کھائے کہ ایک ثلث پیٹ,کھانے کے لیے, ایک ثلث پانی کے لیے اور ایک ثلث سانس کے لیے رکھے.”(مسند) آپریشن: حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک شخص کی عیادت کو گیا.جس کی پیٹھ پر ورم آگیا تھا. لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی پیٹھ میں بتوزی ہے, فرمایا: “چاک کر ڈالو”. حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت تک وہاں موجود رہے جب تک عمل جراحی پورا نہ ہوگیا.” بیمار کو کھانے کے لیے مجبور نہ کرنا:حدیث مبارکہ ہے: “بیماروں کو کھانے پینے پر مجبور نہ کرو کیونکہ اللہ تعالی انہیں کھلاتا پلاتا ہے.”(ترمذی) بیمار کا دل بہلانا: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “جب بیمار کی عیادت کو جاؤ تو اسے زیادہ زندہ رہنے کی امید دلاؤ.اس سے کچھ نہیں ہوتا لیکن بیمار کا دل خوش ہو جاتا ہے.”(ابن ماجہ) حرام سے علاج نہ کیا جائے:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حرام چیز دوا میں دینے سے منع کیا ہے.شراب کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”وہ دوا نہیں ,خود بیماری ہے.”(کتب سنن)ایک اور حدیث مبارکہ ہے:”جو چیزیں اللہ تعالی نے تم پر حرام کر دی ہیں ان میں تمھارے لیے شفا نہیں رکھی.”(بخاری)بحوالہ”اسوہ حسنہ”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*