Home » Waseb News » Qandil Baloch Parents forced to live in poverty

Qandil Baloch Parents forced to live in poverty

قندیل بلوچ کے والدین کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور

safdar-shah

ڈیرہ غازیخان(مانیٹرنگ ڈیسک) غیرت کے نام پر قتل ہونیوالی قندیل بلوچ کے والدین اپنی بیٹی کے مرنے کے بعد کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے،اپنی زندگی میں متعدد تنازعات کا شکار رہنے والی اداکارہ والدین کا سہارا تھی اور بھائیوں ووالدین کی مالی مدد کررہی تھی جبکہ قندیل کی آخری رسومات کی ادائیگی کیلئے بھی والدین نے پڑوسیوں سے رقم ادھارلی، یہ بھی انکشاف ہواہے کہ قندیل بلوچ کے منیجر وغیرہ سمیت چھ سے سات ملازمین اداکارہ کی موت کے بعد سے غائب ہیں جبکہ ان کے کراچی اور لاہور میں واقع گھروں اور گاڑی کے بارے میں بھی کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔مقامی وکیل نے بتایاکہ علم ہونے پر حسب ضرورت وہ مالی امداد کررہاہے اور کہیں آنا جانا ہوتو ساتھ لے جاتاہے۔

نجی ٹی وی چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں قندیل کے والدین نے بتایاکہ سعودی عرب میں موجود ایک بیٹے ، ایک فوجی اہلکار بیٹے اور ایک دکاندار بیٹے میں سے کوئی بھی مالی مدد نہیں کررہا، قندیل ہی خدمت گزار تھی اور مکان کاکرایہ بھی وہی دیتی تھی، قندیل بہادر لڑکی تھی، وہ غلط نہیں کہتی تھی اور نہ کسی سے ڈرتی تھی ۔ وفات سے قبل فون کرکے کہاکہ مقدمات کی وجہ سے امی میں پریشان ہوں ، سکون کرنا چاہتی ہوں ، مہینہ ڈیڑھ آپ کے پاس رہناچاہتی ہوں ، وکیل بھی منع کررہاہے لیکن آگئی اور پھر موت کی وادی میں پہنچ گئی۔ ایک سوال کے جواب میں والد نے اپنے قاتل بیٹے کو معاف کرنے سے صاف انکار کردیا تاہم والدہ نے بیٹے کو معاف کرنے کا عندیہ دیدیا۔ والد عظیم بلوچ کا کہنا تھا کہ وہ بیٹی اور یہ بیٹا تھا لیکن اب میرا بیٹا نہیں، بیٹا مقتولہ قندیل سے مماثلت نہیں رکھ سکتا، قندیل قندیل تھی، میرا بیٹا بھی وہی تھی۔ بھیک مانگ لوں گا لیکن بیٹوں سے پیسے نہیں مانگوں گا، ملتان بھی ادھار مانگ کرآیا۔

loading...

قندیل کی والدہ نے بتایاکہ ایک مرتبہ ماڈل نے بتایا تھا کہ وسیم سے مجھے ڈر لگتاہے، شکل کسی اور طرح کی ہے ، لگتاہے کہ مجھے مارنا چاہتاہے، ماں کو کہا کہ کسی طرح شاہ صدر الدین بھیجیں، ماں نے بیس ہزار دے کر بھیج دیا اور بعد میں قندیل نے پڑوس میں قاتل بھائی کیلئے رشتہ بھی ڈھونڈا تھا جس کے بارے میں قندیل نے بھائی کو میسج ہی کردیا تھا لیکن تیسرے ہی دن وسیم واپس آگیا، پڑوس میں فوتگی ہوگئی اور رات کو کراچی سے میت آنا تھی تو ان کی فوتگی کی وجہ سے وسیم کو واپس بھیجا اور نہ ہی قندیل نے کوئی بات کی ، قندیل کے دودھ مانگنے پر پیسے دیئے اور وسیم سے ہی دودھ منگوالیاجس میں اس نے نشہ آور چیز ملادی تھی۔

ایک سوال کے جواب میں قندیل کے والدین نے بتایا کہ اداکارہ و ماڈل کے سابق سسرال بھی مفتی عبدالقوی کی وجہ سے آبائی گھر میں آگئے اور برابھلا کہا،ان لوگوں کو بھڑکایا گیا، شاید اسی وجہ سے بھائی نے غصہ کیا، وہ والدین کو پیسہ کما کر دیتی تھی اور والدین بھائیوں کو دیتے تھے ۔عظیم بلوچ نے بتایا کہ بیٹی نے عیش کرائی ہے ، قوی کی وجہ سے بھڑکایا، ایک ہفتے میں سب کچھ ہوگیا، قوی کیساتھ کلپ کی وجہ سے لوگوں نے طعنے دینے شروع کردیئے ۔ قندیل بلوچ قتل کیس کے وکیل نے بتایاکہ کچھ ایسے لوگ بھی تھے جوانہیں خوشحال دیکھ کر خوش نہیں تھے،قتل کا موجد مفتی قوی کی ویڈیو بنیں۔قتل سے اگلی صبح قندیل نے کراچی جانا تھا، کراچی سے انڈیا چلے جانا تھا لیکن رات کو ماری گئی۔ قاتل بھائی ملتان والے گھر میں اکیلا گیا،والدین اور بہن کودودھ میں گولیاں ملا کر دیں اور حق نواز سمیت دیگر ساتھیوں کو اپنے ساتھ لایا لیکن باہر کھڑے رکھا تاہم اہلخانہ کو شک نہ ہو، بے ہوشی کے بعد اُنہیں بلایا اورموت کی تسلی ہونے کے بعد چلے گئے ۔

قندیل کے والد نے بتایاکہ ٹیکسی ڈرائیور، حق نواز، وسیم اور ایک چوتھا شخص بھی تھا جو ٹیلی فونک رابطے پر تھا۔ مستقبل کے حوالے سے سوال کے جواب میں اہلخانہ کی طرف سے بتایاگیا کہ قندیل بلوچ کے کراچی اور لاہور میں دوگھرتھے ،چھ سات ملازم اور گاڑی تھی، اب کسی چیز کا کوئی پتہ نہیں اور نہ ہی ملازمین کا علم ہے، ان میں سے کوئی افسوس کرنے بھی نہیں آیا،اکائونٹس وغیرہ کا کچھ پتہ نہیں۔ والدین قندیل کے پیسوں سے گزارہ کرتے تھے۔

وکیل نے بتایاکہ قندیل کے قاتل بھائی نے کہا کہ مفتی عبدالقوی کی وجہ سے بہن کومارا ہے ، مفتی نے خبریں اورننگی تصاویر دی ہیں تاہم والدین کا کہنا تھاکہ وہ غریب لوگ ہیں ، مدد گار بیٹی پہلے ہی ماری گئی اور اب وہ کسی کا کچھ نہیں کرسکتے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*