Home » Waseb News » Thanks Imran Khan PTI Chairman

Thanks Imran Khan PTI Chairman

وہ برملا ہنس کر بولے شکریہ عمران خان

thanks-imran-khan

ڈی جی خان : ٹی ایم اے ڈی جی خان کہ وہ ملازمین ہے جو ہر تین ماہ بعد احتجاج پر اس لیے مجبور ہوجاتے تھے کہ انہیں تنخواہیں نہیں ملتی تھی اج تنخواہوں کےساتھ ساتھ انعام بھی ملے۔

thanks-imran-khan-1

شکریہ عمران خان۔۔۔لائن لگے یہ کوئی زلزلہ زدگان یا سیلاب متاثرین نہیں بلکہ ٹی ایم اے ڈی جی خان کہ وہ ملازمین ہے جو ہر تین ماہ بعد احتجاج پر اس لیے مجبور ہوجاتے تھے کہ انہیں تنخواہیں نہیں ملتی تھی اور احتجاج کر کے تنخواہیں مانگتے تھے یہ اب تنخواہیں لینے کے لیے نہیں انعام لینے کے لیے لائن میں لگے ہوئے ہیں حقیقت میں یہ انعام تحریک انصاف کی طرف سے ہے یہ بات میں نہیں کہہ رہا بلکہ انہیں ٹی ایم ملازمین نے مجھے بتائی ان میں کوئی خاکروب ہے اور کوئی مالی انہیں میں سے دو ملامین نے مجھے دیکھا اور میرے پاس آئے کیونکہ جب یہ تنخوہوں کے مسلئے پر احتجاج کرت تھے تو ہم انکئ کوریج پر جاتے تھے انہوں نے بتایا کہ یہ ہماری زندگی میں پہلی بار ہوا کہ بڑی عید کے اتنے عرصے بعد ہمیں انعام دینے کا انتظامیہ کو خیال آیا وہ بھی اس لیے کہ بڑی عید پر صفائی کے اچھے انتظامات تھے حالانکہ بڑی عید پر صفائی کہ جو انتظامات تھے اس کو میں نے عید کے دوسرے روز کور کیا تھا اور وہ صفائی کی وڈیو میری آڈی پر موجود بھی ہے پھر میں نے پوچھا وجہ کیا ہے کہ اب انعام دینے کا انتظامیہ کو مہینے کے ان آخری دنوں میں خیال آیا تو وہ برملا ہنس کر بولے شکریہ عمران خان۔میں نے کہا عمران خان کا پنجاب حکومت سے کیا تعلق تو بولے اگر عمران خان دو نومبر کا اعلان نہ کرتا تو نہ ہمیں تنخواہیں بروقر ملتی اور نہ ہی انعام کا کوئی تصور کرسکتے تھے گزشتہ سال بھی جب خان نے دھرنا دیا تو ہماری تنخواہیں بھی ملی اور اور بغیر کسی وجہ کے انعام بھی

loading...

thanks-imran-khan-2

اور اب بھی یہ صورت حال درپیش ہے ایک خاکروب نے کہا کہ اللہ خان کو ہر چار پانچ ماہ بعد یہ نیک کام کی توفیق دے اسکا فائدہ ہو یا نہ ہو ہم غریبوں کا بڑا فائدہ ہوجاتا ہے صرف اسکے اعلان کرنے سے ہی۔ویسے بات میں وزن تھا اس کم پڑھے لکھے خاکروب کے یہ وہ شعور ہے جو میڈیا کے ذریعے اس خاکروب میں بھی نظر آرہی تھی۔ویسے اگر حکمران اپنا طرز حکمرانی بہتر کرے سرکاری محکموں پولیس واپڈا صحت اور دیگر جگہوں پر انتظامت بہتر کرتے بروقت سرکاری ملازمین خاص کر خاکروبوں مالیوں کو تنخواہیں دیتے انصاف اور صحت اچھا میسر آتا سرکاری ادارے میں کرپشن کا خاتمہ کیا ہوتا لوٹ مار کا بازار کم کرکے امیر و غریب شہری کا فرق خاتم کیا ہوتا قانون سب کے لیے برابر ہوتا لاہور اور ڈی جی خان لیہ جیسے علاقوں یکساں ترقیاتی کام کرائے جاتے اورنج لائن کی بجائے ہسپتالوں پر توجوں دی جاتی دل اور لیور ٹرانسپلانٹ کے ہسپتال بنائے جاتے خالی وعدوں اور اشتہارات کی بجائے عملی کام کرائے جاتے تو شاہد نہ عمران خان کی کال پر کوئی اسلام آباد کا رخ کرتا نہ سڑکوں پر شہری اتنی تعداد میں آتے نہ کوئی یہ کہتا کہ شکریہ عمران خان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*