Home » خبریں » The changes produced in the human body after death

The changes produced in the human body after death

مرنے کے بعد انسانی جسم میں پیدا ہونے والی تبدیلیاں

the-changes-produced-in-the-human-body-after-death2-2

مرنے کے بعد لمحوں سے لے کر مہینوں کے درمیان جسم میں بہت سی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔

کراچی: اس تحریر کا مقصد  حیاتیاتی نقطہ نگاہ سے یہ بتانا ہے کہ جب کوئی انسان مر جاتا ہے تو اس کے مادّی جسم پر کیا گزرتی ہے کیونکہ یہی وہ باتیں ہیں جنہیں سامنے رکھتے ہوئے تحقیقی ماہرین اپنا کام کرتے ہیں۔

سیکنڈوں کے بعد

the-changes-produced-in-the-human-body-after-death2-1

مرنے کے فوراً بعد انسانی دماغ کی سرگرمی اچانک بڑھتی ہے اور پھر اتنی ہی تیزی سے بالکل ختم ہوجاتی ہے۔

مرنے کے ساتھ ہی جسمانی درجہ حرارت 1.6 ڈگری فیرن ہائیٹ (0.89 ڈگری سینٹی گریڈ) فی گھنٹہ کی شرح سے کم ہونے لگتا ہے؛ یہاں تک کہ وہ ارد گرد کے درجہ حرارت جتنا ہوجاتا ہے۔

 منٹوں کے بعد

the-changes-produced-in-the-human-body-after-death4-2
آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے جسمانی خلیات مرنے لگتے ہیں اور ان میں ٹوٹنے پھوٹنے کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ اس طرح ان خلیوں کے اندر بند مواد خارج ہونے لگتا ہے۔

گھنٹوں کے بعد

the-changes-produced-in-the-human-body-after-death4-1

پٹھوں میں کیلشیم جمع ہونے لگتا ہے جس کے باعث لاش اکڑ کر سخت ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ یہ کیفیت مرنے کے تقریباً 36 گھنٹے بعد تک برقرار رہتی ہے۔

 اس کے بعد جب پٹھے ایک بار پھر سے نرم پڑتے ہیں تو جسم میں باقی رہ جانے والے فضلہ جات (پیشاب اور پاخانہ) بھی خارج ہوجاتے ہیں۔

 رگوں میں خون کا بہاؤ رُک جانے کی وجہ سے کششِ ثقل اس خون کو نیچے کی طرف کھینچ لیتی ہے۔ نتیجتاً سرخ و سفید رنگت والی جلد پیلی پڑجاتی ہے اور اس پر جگہ جگہ سرخ دھبے نمایاں دکھائی دینے لگتے ہیں۔

loading...
 the-changes-produced-in-the-human-body-after-death6-2بتدریج خشک ہونے کی وجہ سے کھال سکڑ جاتی ہے جس کے باعث یوں دکھائی دیتا ہے جیسے مُردے کے ناخن اور بال کچھ لمبے ہوگئے ہوں (حالانکہ اصل میں ایسا کچھ نہیں ہوتا بلکہ صرف کھال کے سکڑ جانے کی وجہ سے ایسا صرف محسوس ہوتا ہے)۔

 دنوں کے بعد

the-changes-produced-in-the-human-body-after-death6-1
مرنے کے ایک سے دو دن بعد ہی مُردے کے جسم سے شدید ناگوار بدبو اُٹھنے لگتی ہے کیونکہ اس دوران گلتے سڑتے جسم سے بدبو پیدا کرنے والے مرکبات کی بڑی مقدار خارج ہورہی ہوتی ہے۔

گلنے سڑنے کے اسی عمل میں جسم اعضاء پر بیکٹیریا (جراثیم)، خامروں سے مدد لیتے ہوئے دھاوا بول دیتے ہیں اور انہیں ہڑپ کرکے ختم کرنے لگتے ہیں۔ اس وجہ سے مُردے کے جسم میں (اندر اور باہر کی طرف) سبز رنگت خاصی نمایاں ہوجاتی ہے۔

ہفتوں کے بعد

 the-changes-produced-in-the-human-body-after-death8-2
لاش کے کیڑے مُردہ جسم پر بسیرا کرلیتے ہیں اور نرم جسمانی بافتوں کا 60 فیصد حصہ صرف ایک ہفتے کے اندر اندر کھا کر ہضم کرجاتے ہیں۔

 مُردے کے بال بھی ایک سے دو ہفتے میں جھڑنے لگتے ہیں۔

 لاش کو گلانے سڑانے والے جراثیم اپنا کام جاری رکھتے ہیں جس کے نتیجے میں مرنے کے لگ بھگ تین ہفتے بعد مُردے کی رنگت جامنی پڑجاتی ہے۔

 مہینوں کے بعد

the-changes-produced-in-the-human-body-after-death8-1 اگر مُردہ جسم کے ارد گرد ماحول کا درجہ حرارت تقریباً 50 ڈگری فیرن ہائیٹ (10 ڈگری سینٹی گریڈ) رہے تو جسم کے سارے نرم حصے (سافٹ ٹشوز) صرف چار مہینوں میں گلنے سڑنے کے بعد مکمل طور پر ختم ہوجاتے ہیں؛ اور یوں ہڈیوں پر مشتمل مُردے کا ڈھانچہ ہی باقی رہتا ہے۔

نوٹ:اس مضمون کی تیاری میں نیچر، جرنل آف کرمنل لا اینڈ کرمنالوجی، مائیکروبائیالوجی ٹوڈے، برٹش میڈیکل جرنل اور آسٹریلین میوزیم کی ویب سائٹس پر دستیاب معلومات سے مدد لی گئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*