Home » خبریں » Tree bound in chains برسوں سے زنجیروں میں جکڑا درخت

Tree bound in chains برسوں سے زنجیروں میں جکڑا درخت

Tree bound in chainsپشاور میں 118 برسوں سے زنجیروں میں جکڑا درخت

14196185_1075567399185977_7526413887595264624_o

لنڈی کوتل چھاؤنی میں موجود برگد کے پیڑ کو 1898 میں انگیز فوجی افسر کے حکم پر زنجیروں سے باندھا گیا تھا۔

پشاور : لنڈی کوتل چھاؤنی میں موجود برگد کا ایک پرانا درخت 118 برسوں سے زنجیروں میں جکڑا ہوا ہےاور وہ اب بھی رہائی کا منتظر ہے۔

In Peshawar, Pakistan, you can find a banyan tree draped in chains

tree-in-pakistan-bound-in-chains-after-being-arrested-118-years-ago-by-drunk-british-officer-136408466868103901-160907170427

1898 میں ایک برطانوی فوجی افسر جیمس اسکوئڈ نے نشے کی حالت میں دیکھا کہ چھاؤنی میں لگا ہوا برگد کا درخت اس کی طرف بڑھ رہا ہے اور اس نے ایک سپاہی کو حکم دیا کہ وہ درخت کو فوری طور پر گرفتار کرلے۔ حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اس سپاہی نے درخت کو زنجیروں میں جکڑ دیا۔ اس دن سے لے کر آج تک وہ درخت لنڈی کوتل چھاؤنی میں زنجیروں سے جکڑا ہوا کھڑا ہے اور اس پر انگریزی میں ایک تختی بھی لگی ہوئی جس پر لکھا ہے: ’’میں زیرِ حراست ہوں۔‘‘

loading...

1947 میں قیامِ پاکستان کے بعد بھی یہ درخت پابندِ سلاسل ہی رہا اور کسی نے اسے زنجیروں سے آزادی دلانے کی کوشش نہیں کی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس درخت کو آج تک زنجیروں میں جکڑے رکھنے کا مقصد انگریزوں کے مظالم کو یاد رکھنا ہے کیونکہ برطانوی حکام وہاں کے قبائلیوں کو اپنے جبر و استبداد کے خوف میں مبتلا رکھنے کے لیے انہیں بات بات پر سزائیں دیا کرتے تھے اور اکثر بھاری زنجیروں سے باندھ دیا کرتے تھے

chained-tree-01-580x1031

ایک مقامی بزرگ نے بتایا کہ یہ درخت برطانوی حکومت کے بے رحمانہ ’’فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن‘‘ (ایف سی آر) کی یاد تازہ رکھنے کے لیے آج تک زنجیروں میں جکڑ کر رکھا گیا ہے کیونکہ یہ قانون خاص طور پر قبائلی پشتونوں میں انگریز کے خلاف مزاحمت کچلنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ ’’برزگ نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ یہ کالا قانون آج بھی فاٹا میں نافذ ہے اور یہاں کے لوگ بھی برگد کے اس درخت کی طرح پابندِ سلاسل ہیں۔

مقامیوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے موجودہ حکام کو چاہیے کہ وہ اس درخت ہی کو زنجیروں سے آزاد کرنے کے ساتھ ساتھ فاٹا میں آج بھی نافذ غیر منصفانہ اور متعصبانہ ایف سی آر کا خاتمہ کریں اور وہاں رہنے والوں کو ملک کے دوسرے علاقوں میں رہنے والوں کے مساوی حقوق دیں۔ جب تک یہ نہیں ہوجاتا، تب تک زنجیروں میں جکڑا ہوا یہ درخت گویا اپنے آپ میں احتجاج کرتا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*